ابراہیم علیہ السلام ہمارے وہ باشعور امام ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کے دین سے بغاوت کی

ڈسکرپشن

اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات قسط نمبر پانچ 

اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو قران پاک میں ہمارا امام اور باپ بنایا ہے۔اور یہ سچا پیغام رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک پہنچایا ہے۔ یہ قیامت تک انے والے لوگوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا پیغام ہے. ہمیں اسی حنیفا یعنی یکسو دین کا حکم اللہ تعالی اور اس کے رسول نے دیا ہے جب کہ تمام مولوی مفتی اور فرقہ پرست امام بخاری کی بندگی کر رہے ہیں ۔امام بخاری جس کا نام پورے قران پاک میں کہیں نہیں ہے جس کو ہم میں سے کسی نے نہیں دیکھا۔ بس ایک بت ہے ۔جو لوگوں کے دل اور دماغ میں سما گیا ہے ۔ یہ وہ چول اور بےشعور بت ہے۔ جس نے ایک بندریا کو زنا کے الزام میں بندروں کے ساتھ مل کر سنگسار کیا ۔۔

خواتین و حضرات 

یہ کیا چول لاجک والا کام ہے ۔

کیا جو بندر اس بندریہ کو سنگسار کر رہے تھے کیا ان شریف زادوں اور پاک باز بندروں کے پاس نکاح کے لائسنس تھےاور ان کو یہ لائسنس کس نے دیے تھے . کیاجانوروں کے پاس بھی لائسنس ہوتے ہیں

 خواتین وحضرات۔

اج اپ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے امام میں اور لوگوں کے بنائے ہوئے امام بخاری میں فرق کریں ۔فرقہ پرستی چھوڑ کر ابراہیم علیہ السلام کو اپنا امام بنا لیں۔ باپ بنا لیں تاکہ ہم وہ لوگ ہوں جو اپنے ایمان میں شرک کی امیزش نہ کرنے والے ہوں .

 اج ہم ابراہیم علیہ السلام کا طرز عمل دیکھیں گے کہ کیسے اللہ تعالی نے ان کے شعور کو پیش کیا ہے.وہ کس طرح اللہ تعالی کی تلاش میں تھے.. ان کا شعور دیکھیں کہ کس طرح انہوں نے اپنے باپ دادا کی بندگی والا راستہ چھوڑا اور اللہ تعالی کی بندگی اورفرما برداری اختیار کی.اس طرح انہوں نے اپنے باپ دادا کے دین سے بغاوت کر لی اورحنیفا یعنی یکسو دین کو قبول کر لیا اورمشرکوں سے دور ہو گئے


سورۃ الانعام، آیات 74 تا 83

آیت 74 وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

 ترجمہ: اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا: کیا آپ بتوں کو معبود بناتے ہیں؟ بے شک میں آپ کو اور آپ کی قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔

آیت 75 وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ترجمہ:

 اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کے عجائب دکھاتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔

آیت 76 فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ

 ترجمہ: پھر جب ان پر رات چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا، کہا: یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا: میں غروب ہو جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

آیت 77 فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ

 ترجمہ: پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو کہا: یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا: اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دے تو میں ضرور گمراہ لوگوں میں سے ہو جاؤں گا۔

آیت 78 فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ 

ترجمہ: پھر جب سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو کہا: یہ میرا رب ہے، یہ تو سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہا: اے میری قوم! جنہیں تم اللہ کا شریک بناتے ہو، میں ان سے بیزار ہوں۔

آیت 79 إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ 

ترجمہ: بے شک میں نے حنیفا یعنی یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

آیت 80 وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۚ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ

 ترجمہ: اور ان کی قوم ان سے جھگڑنے لگی۔ انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو، حالانکہ اس نے مجھے ہدایت دی ہے؟ اور میں ان سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اس کا شریک بناتے ہو، مگر یہ کہ میرا رب کچھ چاہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟

آیت 81 وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ 

ترجمہ: اور میں ان سے کیسے ڈروں جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنایا ہے، جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ انہیں شریک ٹھہرایا ہے جن کے بارے میں اس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی؟ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ دونوں گروہوں میں امن کا زیادہ حق دار کون ہے؟

آیت 82 الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ 

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم (شرک) کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، انہی کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔

آیت 83 وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ

 ترجمہ: اور یہ ہماری وہ دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی۔ ہم جس کے درجات چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں۔ بے شک آپ کا رب بڑی حکمت والا، خوب علم رکھنے والا ہے۔

خواتین و حضرات 

اپ نے دیکھا 

کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ ازر سے کہا کہ کیا بتوں کو معبود بناتے ہو۔ بے شک میں اپ کو اور اپ کی قوم کو گمراہی میں دیکھتا ہوں ۔

خواتین و حضرات 

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم ابراہیم علیہ السلام کو زمین اور اسمانوں کے عجائبات دکھا رہےتھے تاکہ وہ اللہ تعالی پر یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں 

پھر جب ان پر رات چھا گئی تو انہوں نے ستارے کو دیکھا انہوں نے کہا یہ میرا رب ہے پھر جب وہ غروب ہو گیا تو انہوں نے کہا میں غروب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔پھرچاند کو دیکھا تو انہوں نے کہایہ میرا رب ہے جب وہ بھی غروب ہو گیا

پھرجب سورج کو دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے ۔وہ بھی غروب ہو گیا ۔تو اپنی قوم سے کہنے لگے میری قوم میں ان سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ تعالی کا شریک بناتے ہو۔ ان ایات سے ہمیں پتہ چلا کہ ان کی قوم بتوں کے علاوہ چاند ستاروں سورج کو بھی پوجتی تھی ۔ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ان سے بیزار ہوں میں نے حنیفا یعنی یکسو ہو کر اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی طرف کر لیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ان کی قوم ان سے جھگڑنے لگی۔ابراہیم علیہ السلام نے کہا کیا تم اللہ تعالی کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے ہدایت دی ہے۔اور میں ان سے کیسے ڈرو جنہیں تم اس کا شریک بناتے ہو۔ جن کے لیے اللہ تعالی نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اگر تم جانتے ہو تو دونوں میں سے کون سا گروہ امن کا حقدار ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کو شامل نہیں کیا وہی امن کے حقدار ہیں اور وہی ہدایت پر ہیں۔یہ وہ دلیل تھی۔۔ جو اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو ان کو قوم کے

 مقابلے پر دی تھی اللہ تعالی جسے چاہتے ہیں ۔ ہدایت دیتے ہیں۔


سورۂ مریم، آیات 45 تا 49 (عربی اور اردو ترجمہ)

آیت 45

عربی: يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا

اردو ترجمہ: اے میرے والد! مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں آپ کو رحمان کی طرف سے عذاب نہ پہنچ جائے، پھر آپ شیطان کے ساتھی بن جائیںگے۔

آیت 46

عربی: قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا

اردو ترجمہ: اس نے کہا: اے ابراہیم! کیا تم میرے معبودوں سے بیزار ہو؟ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کر دوں گا، اور ایک لمبے عرصے کے لیے مجھ سے دور ہو جاؤ۔

آیت 47

عربی: قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا

اردو ترجمہ: ابراہیم نے کہا: آپ پر سلام ہو۔ میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش کی دعا کروں گا، بے شک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔

آیت 48

عربی: وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا

اردو ترجمہ: اور میں آپ لوگوں سے اور ان سب سے الگ ہو جاتا ہوں جنہیں آپ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، اور میں صرف اپنے رب کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ اپنے رب کو پکارنے میں میں محروم نہیں رہوں گا۔

آیت 49

عربی: فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا

اردو ترجمہ: پھر جب ابراہیم ان لوگوں سے اور ان کے ان معبودوں سے الگ ہو گئے جن کی وہ اللہ کے سوابندگی یعنی غلامی کرتے تھے، تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کو نبی بنایا۔

 خواتین حضرات 

آپ نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے ساتھ بات کر رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ اپ کی طرف اللہ تعالی کا کوئی عذاب نہ پہنچے۔ اور اپ کہیں شیطان کے ساتھ دوست نہ بن جائیں ۔تو ان کے والد کو غصہ ا جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اپ میرے معبودوں سے بیزار ہو تو اگر اپ باز نہ ائے تو میں اپ کو سنگسار کر دوں گا ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اپ پر سلام ہو۔میں اپنے رب سے اپ کے لیے بخشش کی دعا کروں گا بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے اس طرح ابراہیم علیہ السلام ان سے دور ہو گئے ان سے اور جن کو وہ اللہ تعالی کے سوا پکارتے تھے یعنی ان کے معبودوں سے دور ہو گئے پھر جب ابراہیم علیہ السلام ان سے اور ان کے معبودوں سے دور ہو گئے تو اللہ تعالی نے انہیں اسحاق اور یعقوب علیہ السلام دیے ۔ اور ہر ایک کو نبی بنایا

اپ نے دیکھا کہ ان ایات میں ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اپ لوگوں سے اور ان سے دور ہو جاتا ہوں جن کو اپ اللہ تعالی کے سوا پکارتے ہیں ۔ابراہیم علیہ السلام ان لوگوں سےاور جن کی وہ بندگی کرتے تھے ان سے دور ہو گئے تو اللہ تعالی نے ان کو ا اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام دیے ۔ اور دونوں کو نبی بنایا

ان ایات سے ہم نے یہ سیکھا یعنی ابراہیم علیہ السلام کے طرز عمل سے ہم نے یہ سیکھا کہ کہ ہم لوگوں نے اپنے باپ دادا کے راستے کے ساتھ نہیں کرنی بلکہ ہم نے حق اور سچ کو دیکھنا ہے ۔اس طرح ابراہیم علیہ السلام ا خلیفہ دین یعنی یکسو دین کی طرف اگئے تو ہمیں چاہیے کہ ہم بھی حنیفا یعنی یکسو دین کی طرف ا جائیں تاکہ تاکہ ہمارا شمار بھی مشرکوں میں سے نہ ہو 


#islam #deeneislam 

#اسلام #قرآن ۔

Related Articles

Details
اللہ تعالی نے دین میں فرقے بنانے والوں کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ختم کر دیا ہے

02 Jul

Read Now →
Details
ابراہیم علیہ السلام ہمارے وہ باشعور امام ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کے دین سے بغاوت کی

16 Aug

Read Now →
Details
اللہ تعالی نے ہمیں حنیفا یعنی یکسو دین پر قائم ہونے کا حکم دیا ہے

18 Jul

Read Now →