اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات کیا ہیں

اسلام یعنی دین حنیفاکی تعلیمات پارٹ نمبر ایک 

خواتین و حضرات۔

اللہ کا اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو سورہ البقرہ کی ایت نمبر 124 میں ہمارا امام بنایا ہے ۔

...اور پورے قران پاک میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم علیہ السلام کا دین حنیفا پیش کیا ہے.جسے دین اسلام کہتے ہیں ۔

دلیل نمبر ایک

 اس ایت میں اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو ہمارا باپ کہا ہے اللہ تعالی نے ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر قائم ہونے کا حکم دیا ہے اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس دین میں کوئی تنگی نہیں ہے اور اس ملت والے لوگوں کو اللہ تعالی نے منتخب کر لیا ہے. اور ان کا نام مسلم ہے

Quran، سورۂ الحج، آیت 78

عربی:

وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ ۚ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ

اردو ترجمہ:

اور اللہ کے لیےجہاد کرو یعنی اللہ تعالی کے لیے کوشش کرو اس کےلیے جہاد کرنا حق ہے۔۔اسی نے تمہیں منتخب کیا ہے، اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر قائم ہو جاؤ اسی (اللہ) نے تمہارا نام پہلے بھی "مسلم" رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی یہی ہے، تاکہ رسول ﷺ تم پر گواہ ہو۔ اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ وہی تمہارا مالک ہے، سو کیا ہی اچھا مالک ہےاور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔۔

خواتین و حضرات 

اپ نے دیکھا کہ اس ایت میں اللہ تعالی نے ہمیں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر قائم ہونے کا حکم دیا ۔ جو لوگ اس ملت پر ہوں گے ان کو اللہ تعالی نے منتخب کر لیا ہے ان کا نام مسلم ہے اور اس دین میں کوئی تنگی نہیں ہے ۔۔

دلیل نمبر دو

 حضرت ابراہیمؑ کی اولاد کو بھی "اہلِ بیت" کہا گیا ہے: 

سورۂ ہود، آیت 73

قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

ترجمہ: "فرشتوں نے کہا: کیا تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر ہوں، اے اہلِ بیت! بے شک وہ بڑی تعریف والا، بڑی شان والا ہے۔"

دلیل نمبر تین

 وہ انسان سب سے بڑا بے وقوف ہے جوابراہیم علیہ السلام کی ملت سے منہ موڑے .حالانکہ اللہ تعالی نے ان کو منتخب کیا ہے

سورہ البقرہ ایت نمبر 130 

وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ

اب کون ہے جو ابراہیم کی ملت سے بے رغبتی کرے یعنی منہ موڑے سوائے اس کے جو خود ہی احمق ہو اور بے شک ہم نے اس کو دنیا میں منتخب کر لیا ہے اور اخرت میں اس کا شمار صالحین میں سے ہوگا۔۔

خواتین و حضرات 

 اپ نے دیکھا ۔اللہ تعالی اس انسان کو بے وقوف کہہ رہے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام کی ملت سے منہ موڑے اس۔ملت کو اللہ تعالی نے منتخب کیا ہے ۔اگر ہم ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے اطاعت کرتے ہیں تو ہم بھی اس ملت کا حصہ بن جائیں گے ۔ جس ملت کو اللہ تعالی نے منتخب کیا ہے۔ 

دلیل نمبر چار

اللہ تعالی نےسب سے بہتر دین اس انسان کا کہا ہے جب ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اطاعت کرے 

سورۃ النساء، آیت 125 

عربی:

وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا

ترجمہ:

"اور اس سے بہتر دین کس کا ہو سکتا ہے جس نے اپنا چہرہ اللہ تعالی کے سامنے جھکا دیا ہو، اوروہ احسان کرنے والا ہو، اور ابراہیمؑ کی ملت کی اطاعت کرے جو حنیفایعنی یکسو تھی اور اللہ تعالی نے ابراہیمؑ کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔"

خواتین و حضرات 

 اپ نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے اس انسان کے دین کو سب سے بہتر کہا جو ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے اطاعت کرے گا ۔۔جو حنیفاتھے یعنی مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ ۔اور اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنا لیا تھا  

دلیل نمبر پانچ

کیا اپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو ہمارے لیے بہترین نمونہ کہا ہے اور یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی بہترین نمونہ تھا 

سورۃ الممتحنہ، آیات 4 

آیت 4: بے شک اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: "ہم تم سے اور ان سب سے جن کی تم اللہ کے سوا بندگی کرتے ہو، بیزار ہیں۔ ہم نے تمہارا انکار کیا، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ۔" مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا کہ "میں ضرور تیرے لیے بخشش کی دعا کروں گا، اگرچہ اللہ کے مقابلے میں تیرے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔" اے ہمارے رب! ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔"

آیت 5: اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کے لیے آزمائش نہ بنا، اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب! بے شک تو ہی زبردست، حکمت والا ہے۔

آیت 6: بے شک اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لیے ان میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔ اور جو منہ موڑے تو بے شک اللہ ہی بے نیاز، ہر تعریف کے لائق ہے۔

دلیل نمبر چھ

اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اطاعت کریں

سورۂ النحل، آیت 123

ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

ترجمہ:

"پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف وحی کی کہ ابراہیم کی ملت کی اطاعت کریں، جوحنیفا یعنی یکسو تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے

خواتین و حضرات

 اپ نے دیکھا 

اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اطاعت کریں۔جو حنیفا یعنی یکسو تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

دلیل نمبر سات

۔اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے اطاعت کریں.جوجو یکسو تھے یعنی جو صرف ایک اللہ تعالی کے ہو گئے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

 سورۂ آل عمران، آیت95 :

عربی:

قُلْ صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

ترجمہ:

 اللہ نے سچ کہا ہے، پس ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اطاعت کرو، جو یکسو تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔


دلیل نمبر آٹھ۔

یہود و نصاری کے مقابلے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے _فرمایا کہ ہدایت تو بس اللہ تعالی کی ہدایت ہے  

۔ سورۃ البقرۃ ایت نمبر 120 

 آپ سے یہود اور نصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ﷺ ان کے ملت کی اطاعت نہ کریں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت ہی بس ہدایت ہے ۔ اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آ جانے کے، پھر ان کی خواہشوں کی اطاعت کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہوگا اور نہ مددگار۔

دلیل نمبر نو

یہود و نصاری کے مقابلے میں اللہ تعالی نے ابراہیم کی ملت کو ہدایت کہا!

 Surat No 2: سورۃ البقرۃ - Ayat No 135 

 ترجمہ 

وہ کہتے ہیں کہ یہودی ہو جا ؤ یا نصرانی ہو جا ؤ ہدایت پا جاؤ گے۔آپ ﷺ کہہ دو نہیں بلکہ ابراہیم ؑ کی ملت جو حنیفا تھے۔ اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔

خواتین وحضرات!

صرف ایک سوال ہے۔ کہ کیا ہم درست دین یعنی دین حنیفا کو جانتے ہیں۔اگر نہیں جانتے۔تواس دین کو قرآن پاک سے چیک کریں۔باربار اللہ تعالی کے حکم میں غور کریں۔تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں درست دین کی سمجھ عطا فرمائے۔آمین

دلیل نمبر دس

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایمان لانے کا اور اسلام لانے کا طریقہ سکھایا ۔

 ان۔ایات میں اللہ تعالیٰ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے دین اسلام سکھا رہے ہیں۔جس طرح رسولﷺ ایمان لائے اسلام لائے۔اگر ہم بھی اس طریقے پرایمان لائے اسلام لائے۔تواس دین کو اللہ تعالیٰ قبول کریں گے۔اس دین اسلام کے علاوہ اللہ تعالیٰ ہر گز کسی دین کو قبول نہیں کریں گے۔یاد رہے کہ تمام فرقے اس طریقے سے مرتد ہیں ۔جسے اللہ تعالیٰ ہر گز قبول نہیں کریں گے اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔ کیونکہ یہ دین اسلام کاطریقہ نہیں ہے۔ایمان لانے مسلم بننے کا طریقہ پیش کیا جارہا ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ ہم سے اور قیامت تک آنے والے لوگوں سے پوچھ رہے ہیں۔کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا دین چھوڑکرکچھ اورچا ہتے ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں چاروناچار اللہ تعالیٰ ہی کی فرما بردار ہیں یعنی اسلام پر ہیں اور اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔


سورۂ آل عمران، آیات 83 تا 85:

آیت 83:

أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ

ترجمہ: "کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کچھ اور چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، سب خوشی سے یا مجبوری سے اسی کی فرمابردار ہے، یعنی اسلام پر ہیں اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔"

آیت 84:

قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ

ترجمہ: "کہہ دیجیے: ہم اللہ پر ایمان لائے، اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا، اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا، اور جو موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔" یعنی مسلم ہیں 

آیت 85:

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ: "اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔"

         

خواتین وحضرات!

آپ نے دیکھا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی فرمابرداری والا دین یعنی اسلام چھوڑ کر کسی اور دین کی اطا عت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی فرما برداری کر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی سب کو پلٹنا ہے آپ ؐ کہہ دیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور قرآن پر ایمان لائیں اور جو دوسرے رسولوں کو کتابیں دیں گئیں ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرما بردار ہیں۔اس فرما برداری یعنی اسلام کے سوا جو کوئی اور طریقہ اختیار کرے گا تو اس سے وہ طریقہ ہرگز قبول نہیں کیا جا ئے گا۔اور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا 

خواتین و حضرات!

یہ جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔اس طریقے کے علاوہ اللہ تعالیٰ کسی طریقے کو قبول نہیں کریں گے۔

جس طرح رسولﷺ نے کہا اوراسلام لائے ایمان لائے۔ہم نے بھی اسطرح کہنا ہے۔اسی طرح اسلام لانا ہے۔ایمان لانا ہے۔ یہ رسولﷺ کی اطاعت ہے

آپ نے دیکھا۔ان آیات میں مسلم بننے کاطریقہ سکھایا گیا ہے۔اگر ہم بھی اس طرح اسلام لائے۔تواس دین کو اللہ تعالیٰ قبول کریں گے۔اس دین اسلام کے علاوہ اللہ تعالیٰ کسی دین کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔۔۔

خواتین وحضرات!

 میں نے آپ کو قرآن پاک سے اسلام قبول کرنے کا طریقہ دکھایا۔جو رسولﷺ نے ہمیں سکھایا ہے۔وہ یہ ہے۔۔ کہ ہم ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور جو ہماری طرف ناذل کیا گیا ہے اور جو ابراہیم ؑ اسماعیل ؑ اسحاق ؑ اور ان کی اولاد کی طرف ناذل کیا گیاتھا اور جو موسیٰ ؑ عیسیٰؑ کو دیا گیا اور دوسرے انبیا کو دیا گیاتھا۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے ہی فرمابردار ہیں یعنی مسلم ہیں۔ جو کوئی اسلام کے سوا اوردین ااختیار کرنا چا ہے گا۔اس کا وہ طریقہ ہرگز اُس سے قبو ل نہیں کیا جا ئے گا اور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔

خواتین وحضرات!

 ٓآپ نے دیکھا۔کہ ہم نے قرآن پاک سمیت پہلی تمام کتابوں پر ایمان لانا ہے۔نہ کہ قرآن پاک کے بعد کسی حدیث کی کتاب پر ایمان لانا ہے۔اس طریقے کو اللہ تعالیٰ ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ا ور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔

یا د رکھیں 

اس طریقے کو اللہ تعالیٰ نے سارے قرآن پاک میں بیان کیا ہے۔یعنی قرآن اور قرآن سے پہلی کتابوں پر ایمان لانا۔ نہ کہ قرآن پاک کے بعد نام نہاد اماموں کی لکھی کتابوں پر ایمان لانا۔ 

اللہ تعالی ایسے تمام لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ کیاتم اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین چاہتے ہو.حالانکہ.زمین اور اسمان کی تمام چیزیں چاہتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی اسلام پر ہیں یعنی اللہ تعالی کی فرمانبرداری پرہیں.اللہ تعالی نے اس خطاب کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے قیامت تک انے والے لوگوں کو ایمان لانے کا اور اسلام لانے کا طریقہ سکھا دیا جولوگ اس کو مانیں گے وہ ہدایت پر ہوں گے اور جو نہیں مانیں گے وہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔کیونکہ اللہ تعالی اسلام کے سوا کسی دین کو ہرگز قبول نہیں کریں گے 

دین میں فرقے بنانے والوں کے ساتھ اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ختم کر دیا ہے 

 سورۂ الأنعام، آیت

 159

عربی:

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

اردو ترجمہ:

"بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور مختلف گروہ بن گئے، آپ اللہ علیہ والہ وسلم کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا معاملہ تو اللہ کا ہے، پھر وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کر رہے تھے۔"

خواتین و حضرات

 یہ پارٹ نمبر ایک ہے جلد ہی اپ کے لیے پارٹ ٹو بھی پیش کیا جائے گا ۔۔۔۔

Related Articles

Details
ہمیں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ ہم یکسو ہو کر صرف اللہ تعالی کے ہو جائیں

05 Jul

Read Now →
Details
اللہ تعالی نے ہمارا امام ابراہیم علیہ السلام کو بنایا ہے

27 Jun

Read Now →
Details
اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے ساتھ کریں

30 Jun

Read Now →