اللہ تعالی نے ہمیں حنیفا یعنی یکسو دین پر قائم ہونے کا حکم دیا ہے
یہ ہیں سورۂ روم، آیات 30 تا 32:
سورۂ الروم، آیت 30
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
ترجمہ:
پس آپ اپنا رخ حنیفا یعنی یکسو ہو کر اسی دین کی طرف قائم رکھیں، جو اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی درست دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
سورۂ الروم، آیت 31
مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ:
اسی کی طرف رجوع کرنے والے بنو، اس سے ڈرو، نماز قائم کرو، اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ۔
سورۂ الروم، آیت 32
مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
ترجمہ:
ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور مختلف گروہ بن گئے۔ ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔