کیا قران پاک ہمارے لیے کافی ہے

فرقہ پرستی کا اپریش۔یہ ایات احادیث اور شان نزول کو مسترد کرتی ہیں یعنی ریجیکٹ کرتی ہیں

مولوی اور مفتی لوگوں کو قران پاک سے روکنے کے لیے ایک حدیث پیش کرتے ہیں۔ یہ احادیث کی تین مختلف کتابوں میں ائی ہے۔جس کا مرکزی خیال یہ ہے ۔کہ ایک ایسا شخص ہوگا جو مسند پر ٹیک لگائے ہوئے ہوگا اور وہ قران پاک کو کافی کہے گا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا شخص نہ کسی کو پاؤں ۔

خواتین و حضرات

اس طرح جو انسان کہےکہ میرے لیے قران پاک کافی ہے تو مولوی مفتی کہتے ہیں کہ یہ تو منکر حدیث ہے وہ تو کافر ہے ۔ اس شخص کی سزا تو قتل کر دینا ہے ۔یعنی کوئی اس طرح کی بات نہیں کہہ سکتا کہ قران پاک ہمارے لیے کافی ہے۔ ۔۔

خواتین و حضرات 

چونکہ فرقہ پرست قران پاک کا علم نہیں رکھتے ۔وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ یہ قران پاک کا حکم ہے.یعنی اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے ۔ کہ لوگوں کے لیے قران پاک کافی ہے اس میں ان کے لیے نصیحت اور رحمت ہے ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالی کی گواہی ہے جو میرے اور لوگوں کے درمیان ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اللہ تعالی کی ایات انکار کرے گا یعنی کفر کرے گا تو وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا ۔

خواتین و حضرات ۔

ائیں قران پاک سے وہ ایات دیکھتے ہیں۔جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی گواہی کو بیان کیا ہے کہ قران پاک لوگوں کے لیے کافی ہے اس میں ایمان والوں کے لیے نصیحت اور رحمت ہے ۔۔۔

سورۃ العنکبوت، آیات 51–52

آیت 51

أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

ترجمہ: "کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ ﷺ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے؟ بے شک اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی رحمت اور نصیحت ہے۔"

آیت 52

قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

ترجمہ: "کہہ دیجیے: میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالی کی گواہی کافی ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور جو لوگ جھوٹ پر ایمان لائے یعنی جنہوں نے جھوٹ کو مانا اور اللہ کا انکار کیا، وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔"

خواتین و حضرات  

اپ نے دیکھا کہ کس طرح رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمنوں اور مجرموں نے ایک جھوٹی حدیث بنائی ۔ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کسی شخص کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ اس طرح کی بات کریں کہ قران پاک ہمارے لیے کافی ہے ۔۔۔

اپ نے دیکھا 

کہ یہ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک انے والے لوگوں کو قران پاک کے ذریعے سے دیا ہے کہ قران پاک ہمارے لیے کافی ہے اور جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے ان کے لیے اس میں ہدایت اور نصیحت ہے ۔تو جو لوگ اللہ تعالی کی ایات کا انکار کریں گے وہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ مزید رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی گواہی میری اور لوگوں کے درمیان ہے۔اور یہ گواہ اللہ تعالی ہے ۔

خواتین وحضرات 

ان ایات سے ہمیں چند پوائنٹ ملے 

کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرموں اور دشمنوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بنایا ۔تاکہ لوگوں کو قران پاک سے روکا جا سکے کہ ایسا انسان مسند پر نہ پاؤں جو کہے کہ میرے لیے قران پاک کافی ہے ۔

خواتین و حضرات 

 اللہ تعالی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق 

جواس حدیث کو ماننے والے ہوں گے وہ باطل یعنی جھوٹ پر ایمان لانے والے ہوں گے ۔کیونکہ 

رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات کس طرح کر سکتے ہیں جبکہ انہوں نے قیامت تک انے والے لوگوں کو اللہ تعالی کا یہ پیغام دیا ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالی کی گواہی کافی ہے کہ قران پاک میں لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور رحمت ہے یہ قران پاک لوگوں کے لیے کافی ہے 

خواتین و حضرات

 اب اپ بتائیں کہ اپ منکر حدیث ہونا پسند کریں گے یا منکرین قران ہونا پسند کریں گے ۔یاد رہے کہ فرقہ پرست منکرین قران ہیں جو کفر کرنے والے ہیں اور یہ نقصان اٹھانے والے ہیں 

خواتین و حضرات 

 فیصلہ اپ کا ہے ۔اپ نے ایمان والا بننا ہے یا اپ نے اللہ تعالی کی ایات سے کفر کرنے والا بننا ہے ۔جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔

خواتین وحضرات ائیں فرقہ پرستی کے خلاف قدم اٹھائیں..کہ قران پاک ہمارے لیے کافی ہے اس میں ہمارے لیےرحمت اور نصیحت ہے.تاکہ ہم ایمان والے بن جائیں

Related Articles

Details
اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے ساتھ کریں

30 Jun

Read Now →
Details
اللہ تعالی نے سب سے بہتر دین اس انسان کا کہا جو ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اطاعت کرے

30 Jun

Read Now →
Details
ریسیلم نے فرمایا کہ اے کتاب والو اؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں یکسا ں ہے

18 Jul

Read Now →