جو سوالات ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کیے وہی سوالات اج ہم بھی اپنے باپ اور مولوی مفتیوں سیے کرتے ہیں ۔۔۔۔ر

ڈسکرپشن

ڈسکرپشن


اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات قسط نمبر7

، سورۂ الصافات 

آیت 85

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ

ترجمہ: جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: تم کس بندگی کرتے ہو؟

آیت 86

أَفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ

ترجمہ: کیا اللہ کے سوا جھوٹے معبود چاہتے ہو؟

آیت 87

فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ: پھر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟

آیت 88

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ

ترجمہ: پھر انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر ڈالی۔

آیت 89

فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ

ترجمہ: پھر کہا: بے شک میں بیمار ہوں۔

آیت 90

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ

ترجمہ: پس وہ ان سے منہ موڑ کر چلے گئے۔

آیت 91

فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ

ترجمہ: پھر وہ چپکے سے ان کے معبودوں کے پاس گئے اور کہا: کیا تم کھاتے نہیں ہو؟

آیت 92

مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ

ترجمہ: تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم بولتے نہیں؟

آیت 93

فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ

ترجمہ: پھر وہ ان پر دائیں ہاتھ سے زور کی ضربیں لگانے لگے۔

آیت 94

فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ

ترجمہ: پھر وہ لوگ دوڑتے ہوئے ان کے پاس آئے۔

آیت 95

قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ

ترجمہ: ابراہیم نے کہا: کیا تم ان کی بندگی کرتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو؟

آیت 96

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ

ترجمہ: حالانکہ اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا اور جو کچھ تم بناتے ہو اسے بھی۔

آیت 97

قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ

ترجمہ: انہوں نے کہا: اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دو۔

آیت 98

فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ

ترجمہ: پس انہوں نے اس کے خلاف ایک تدبیر کرنا چاہی، مگر ہم نے انہیں ہی ذلیل کر دیا۔

آیت 99

وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ

ترجمہ: اور ابراہیم نے کہا: میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔

آیت 100

رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ

ترجمہ: اے میرے رب! مجھے صالحین میں سے اولاد عطا فرما۔

آیت 101

فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ

ترجمہ: تو ہم نے انہیں ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔

آیت 102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ: پھر جب وہ لڑکا ان کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، پس دیکھو تمہاری کیا رائے ہے۔ اس نے کہا: اے میرے والد! جو حکم آپ کو دیا جا رہا ہے اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔

آیت 103

فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ

ترجمہ: پھر جب دونوں فرمابردار بن گئےاور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بل لٹا دیا۔

آیت 104

وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ

ترجمہ: اور ہم نے اسے پکارا: اے ابراہیم!

آیت 105

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ: یقیناً تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ بے شک ہم احسان کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

آیت 106

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ

ترجمہ: بے شک یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی۔

آیت 107

وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ

ترجمہ: اور ہم نے اسے ایک عظیم قربانی کے بدلے چھڑا لیا۔

آیت 108

وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ

ترجمہ: اور ہم نے بعد والوں میں اس کے لیے ذکرِ خیر باقی رکھا۔

آیت 109

سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ

ترجمہ: سلام ہو ابراہیم پر۔

آیت 110

كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ: اسی طرح ہم احسان کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔

آیت 111

إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ: بے شک وہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھے۔

 خواتین وحضرت

اپ نے دیکھا

جب ابراہیم علیہ السلام نےاپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کن کی بندگی کرتے ہو.کیا تم اللہ تعالی کو چھوڑ کر جھوٹےمعبود چاہتے ہو۔پھر تمہارا تمام جہانوں کے رب کے بارے میں کیا خیال ہے...اسی طرح ابراہیم علیہ السلام نے ان لوگوں کے ساتھ کہیں جانے سے انکار کردیاور کہا کہ وہ بیمار ہیں اس لیے وہ لوگ ان سے منہ موڑ کر چلے گئےجب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم علیہ السلام ان کے معبودوں کے پاس ائے اور کہنے لگے کہ تم کھاتے کیوں نہیں تمہیں کیا ہوا ہے تم بولتے کیوں نہیں.پھر انہوں نے اپنےدائیں ہاتھ سے مارا۔ 

ابراہیم علیہ السلام کی قوم واپس ائی اور انہوں نے اپنے ٹوٹے ہوئے بتوں کا حال دیکھا تووہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس دوڑتے ہوئے ائے ۔ابراہیم علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم ان کی بندگی کرتے ہو جنہیں خود بناتے ہوحالانکہ اللہ تعالی نے تمہیں بھی بنایااور ان کو بھی بنایا ہے.پھر انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو اگ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا..اللہ تعالی نے ان کو نیچا دکھا دیاابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں ۔وہ میری ہدایت کرے گا .انہوں نےاللہ تعالی سے دعا کی کہ مجھےصالح اولاد دے تو اللہ تعالی نے ان کو بیٹا دیا.وہ چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تو ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہےکہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں. تمہاری کیا رائے ہےاس نے جواب دیا کہ اپ کو جو حکم دیا گیا ہے اپ مجھے اس حکم پر عمل کرنے والوں میں پائیں گے..دونوں نے اللہ تعالی کے حکم کے اگے سر جھکا دیایعنی فرمانبردار بن گئے .اور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بل لٹا دیاتو اللہ تعالی نے انہیں پکارا اور کہا کہ تم نےخواب کو سچ کر کے دکھایا۔۔بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں 

بےشک یہ ایک واضح ازمائش تھی۔جسے ہم نے ایک قربانی کے بدلے بچا لیا.پھر اللہ تعالی ابراہیم علیہ السلام کی تعریف فرماتے ہیں اور کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام پر سلام ہو۔۔

بے شک وہ ایمان والوں میں سے تھے۔

خواتین حضرات اج ان ایات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہی سوال تمام مولوی مفتی اور فرقہ پرستوں سے کرتے ہیں ۔کہ جو کام ہر فرقے کے امام نے کیا ہے ۔یعنی اپنے فرقے کی دی ہوئی احادیث کے ذریعے قران پاک کی تفسیر و تشریح بیان کرنا اور شان نزول بیان کرنا اور اللہ تعالی کی ایات کو جھٹلا کر قران پاک کے خلاف جہاد کرنا ۔ اور پھر لوگوں کو اپنے فرقے کی طرف بلانا ۔ان تمام چیزوں کی اللہ تعالی کی بندگی کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے ۔۔کیونکہ اس طرح لوگوں نے اللہ تعالی کے مقابلے میں بہت سے معبود بنا لیے ہیں ۔اللہ تعالی کو چھوڑ کر ان جھوٹے معبودوں کو چاہتے ہیں ۔تمام فرقہ پرستوں سے ایک سوال ہے تمہارا تمام جہانوں کے رب کے بارے میں کیا خیال ہے ۔اس کی بندگی چھوڑ کر ان جھوٹے معبودوں کی بندگی کرتے ہو تمہیں اور تمہارے ان جھوٹے معبودوں کو اللہ تعالی نے ہی پیدا کیا ہے ۔ ہماری ہدایت یہ جھوٹے معبود نہیں کریں گے بلکہ ہماری ہدایت اللہ تعالی کرے گا ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ایمان والا بنائے ۔یعنی اللہ تعالی ہمارا شمار ان لوگوں میں کریں جو اللہ تعالی کی ایات پر ایمان لانے والے ہوں۔

خواتین و حضرات 

اپ نے دیکھا کہ ان ایات کے اخر میں 

 اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ ایک واضح ازمائش تھی ۔ان ایات میں ابراہیم علیہ السلام کی دو دفعہ ازمائش ہوئی پہلے جب انہیں اگ میں ڈالا گیا اور پھر ان کو بیٹے کی ازمائش میں ڈالا گیا ۔وہ اپنی ازمائش میں پورا اترے اسی لیے اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو ہمارا امام بنایا ہے 

اسی لیے اللہ تعالی سورہ بقرہ ایت نمبر 124 میں فرماتے ہیں کہ جب ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو چند باتوں میں ازمایا تو انہوں نے اسے پورا کر کے دکھایا تو ہم نے کہا کہ کہ اپ کو تمام لوگوں کے لیے امام بنایا جائے گا ۔

ابراہیم علیہ السلام وہ عظیم الشان شخصیت ہیں ۔جو ہمارے باشعور امام ہیں ۔اور ان کو اللہ تعالی نے ہمارا باپ بھی کہا ہے ۔


#islam #islamicpost #islamic #IslamicReminder #IbrahimTraore 


# اسلام # قران # ابراہیم

Related Articles

Details
جو لوگ رسول ﷺ کے طریقے پر ایمان اور اسلام نہیں لائیں گے ان کے دین کو اللہ تعالی ہرگز قبول نہیں کریں گے

29 Jun

Read Now →
Details
اللہ تعالی نے اس انسان کو سب سے بڑا بے وقوف کہا جو ابراہیم علیہ السلام کی ملت سے منہ موڑے

30 Jun

Read Now →
Details
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اولاد یعنی ہمارے درمیان کون سی بات چھوڑ گئے ہیں

18 Jul

Read Now →