اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات میں رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام نے کس کی اطاعت کی
اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات قسط نمبر 2
یاد رہے کہ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو سورہ البقرہ کی ایت نمبر 124 میں ہمارا امام کہا ہے اور سورہ حج کی ایت نمبر 78 میں ہمارا باپ کہا ہے ۔
اب ہم قران پاک سے دیکھیں گے کہ رسول ﷺاور ایمان لانے والے یعنی صحابہ کرام نے ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کی ۔اور ان کی نسبت یعنی تعلق ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہے۔
سورۂ آل عمران، آیات 67 اور 68:
آیت 67 (عربی):
مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ: "ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، بلکہ وہ حنیفا مسلم تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔"
آیت 68 (عربی):
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ: "بے شک ابراہیم علیہ السلام سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی اطاعت کی، اور یہ نبی ﷺ ، اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اور اللہ ایمان لانے والوں کا دوست ہے۔" یعنی مومنوں کا دوست ہے
خواتین و حضرآت!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ابراہیم ؑ کے طرز عمل کی وضاحت کر رہے ہیں۔کہ وہ نہ یہودی تھے نہ عیسائی تھے۔ بلکہ وہ حنیفا مسلم تھے۔ یعنی وہ یکسو اللہ تعالیٰ کے فرما بردار تھے اوروہ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔ابراہیم ؑ سے تعلق رکھنے کا حق ان کو پہنچتا ہے۔ جنہوں نے اُس کی اطاعت کی۔۔ اب یہ نبی ﷺاور ایمان والے یعنی ماننے والے اس نسبت کے حق دار ہیں اللہ تعالیٰ ان کادوست ہے۔ جو لوگ ایمان لائے یعنی جو مومن ہیں
خواتین و حضرات
۔اس ایت میں ایمان والے یعنی صحابہ کرام کو دیکھا۔ یہ وہ تھے۔ جنہوں نے رسولﷺ کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کی۔۔
خواتین وحضرات!
یاد رکھنے والی بات یہ ہے۔کہ رسول ﷺاور ایمان لانے والے صحابہ کرام نے ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کی۔۔
اب صحابہ کرام کے بعد اب ہم میں سےجو لوگ ابراہیم علیہ السلام سے نسبت رکھنے والے ہوں گے۔ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کرنے والے ہوں گے وہ ایمان والے ہوں گے ۔۔۔مگرہماری بدقسمتی ہے کہ لوگ رسول ﷺ کی اطاعت کی اڑ میں امام بخاری کی اطاعت کرتے ہیں ۔ جبکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والےصحابہ کرام نے ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کی۔
۔جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان لانے والے صحابہ کرام ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کر کے ایمان والے بنے ہیں تو ہم بھی ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کریں گے تاکہ ہم بھی ایمان والے بنیں اور اس نسبت کے حقدار بنیں یعنی تعلق کے حقدار بنیں ۔
اپ نے دیکھا کہ ان ایات میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو ابراہیم علیہ السلام کے سب سے قریبی تھے ۔جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کی تھی ۔یعنی ان کی قوم کی بات ہو رہی ہے یاد رہے کہ
قران پاک میں انکو ان ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔ ابراہیم کے ساتھی ۔۔ابراہیم کی ملت ۔ابراہیم کی امت ۔ کے نام سے یاد کیا گیا ہے جو مسلم تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے اس مسلم امت میں اللہ تعالی نے رسول ﷺ کو پیدا کیا ۔اس کی دعا بھی حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل نے مانگی تھی ۔
سورۂ البقرہ، آیت 128:
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا دے، یعنی مسلم بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی امت پیدا فرما جو تیری فرمانبردار ہو یعنی مسلم ہو اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا، اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔"
سورۂ البقرہ، آیت 129:
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول ﷺ بھیج، جو ان پر تیری آیات تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، اور ان کو پاک کرے۔ بے شک تو ہی زبردست، حکمت والا ہے۔"
خواتین وحضرات
اپ نے دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام ان کے بیٹے نے دعا مانگی اللہ تعالی نے رسول ﷺ کو ابراہیم علیہ السلام کی مسلم امت میں پیدا کریں۔
خواتین و حضرات
اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنوں میں میں بھیجا
سورۂ آل عمران، آیت 164
﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾
ترجمہ: "یقیناً اللہ تعالی نے مومنو ں پر بڑا احسان کیا کہ جب ان میں ان ہی میں سے ایک رسول ﷺ بھیجا، جو ان پر اللہ کی آیات پڑھتا ہے، انہیں پاک کرتا ہے، اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے۔"
خواتین و حضرات
اپ نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنوں میں بھیجا تھا ان کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی ایات پڑھ کر سنائیں اور کتاب اور حکمت سکھائی ۔یہ لوگ پہلے گمراہ تھے ۔۔
۔دلیل نمبر 15
اللہ تعالی نے رسول ﷺ کو ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اطاعت کا حکم دیا
سورۃ النحل، آیت 123
﴿ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾
اردو ترجمہ: "پھر ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی کہ آپ ابراہیم کےملت کی اطاعت کریں، جو حنیفا یعنی یکسو تھے، اور وہ مشرکوں میں سے ہرگز نہ تھے۔"
دلیل نمبر 16
اللہ تعالی نے ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اطاعت کا حکم دیا
سورۂ آل عمران، آیت 95
قُلْ صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾
اردو ترجمہ: " کہہ دو اللہ تعالی نے سچ کہا ہے ، پس ابراہیم کےملت کی اطاعت کرو ، جوحنیفا یعنی یکسو تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔"
خواتین وحضرات
اپ نے دیکھا _ کہ اللہ تعالی نے رسول ﷺ کے ذریعے ہمیں حکم دیا ہے ۔کہ ہم ابراہیم علیہ السلام کے ملت کی اطاعت کریں جو حنیفا تھےاور مشرکوں میں سے نہ تھے
دلیل نمبر 17
رسول ﷺ نے قران پاک میں گواہی دی ہے اور اقرار کیا ہےکہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی اطاعت کرنے والے ہیں اور یہ صراط مستقیم کی ہدایت ہے ۔اور یہ درست دین ہے ۔اور جو اس دین میں اختلاف کریں گے قیامت والے دن وہ اپنا بوجھ خود اٹھائیں گے
سورۂ الأنعام کی آیات 161 تا 164
آیت 161
قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ: کہہ دیجیے: بے شک میرے رب نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت دی ہے، ایک درست دین کی، جو ابراہیم کی ملت ہے، جو حنیفا تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔
آیت 162
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ: کہہ دیجیے: بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
آیت 163 لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ: اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب سے پہلے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔یعنی مسلمین میں سے ہوں
آیت 164 قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
ترجمہ: کہہ دیجیے: کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بناؤں، حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے؟ اور ہر شخص جو کچھ کماتا ہے، اس کا وبال اسی پر ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے۔۔۔۔
قسط جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔