اللہ تعالی نے دین حنیفا کو درست دین کہا
اس دین کے چند اہم پوائنٹ یہ ہیں
کہ ہمیں اس دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے.اللہ تعالی نے فرمایا کہ حنیفا ہو کر یعنی یکسو ہو کر اپنا چہرہ اس دین کی طرف قائم کر دو
دوسرا پوائنٹ
اللہ نے فرمایا کہ یہ دین اللہ تعالی کی فطرت ہے جس پر اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا ہے.. اس تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی
تیسرا پوائنٹ یہ ہے
یہ درست دین ہے. لیکن اکثریت اس کا علم نہیں رکھتی.
چوتھا پوائنٹ
اللہ تعالی کی طرف رجوع کرو پرہیزگار بنو اور نماز قائم کرو
پانچواں پوائنٹ
فرقے بنا کر مشرک نہ بن جانا.کیونکہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے وہ اس پر بہت خوش ہوتے ہیں بہت راضی ہوتے ہیں
آئیں اب قران پاک سے یہ ایات دیکھتے ہیں جس کا پیغام اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں دیا ہے۔
) سورہ روم۔آیت 30تا32۔پارہ 21
بس تم یکسو یعنی حنیفا ہوکر اپناچہرہ اس دین کی سمت میں قائم کر دو۔۔۔۔یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔یہی درست دین ہے لیکن اکثرلوگ علم نہیں رکھتے۔ اس کی طرف رجوع کرو اورپرہیزگار بنو اورنماز قائم کرو۔ اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہونا جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنا لیے اور کئی فرقے بن گئے۔ اور ہر فرقہ اسی پر خوش ہے جو کچھ اس کے پاس ہے۔
خواتین وحضرت
اپ نے ان ایات کے چند اہم پوائنٹ دیکھے۔
یہ اللہ تعالی کا دین ہے جو اس نے اپنی فطرت پر بنایا ہے ۔ جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے اللہ تعالی نے جو دین تخلیق کیا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی
یہ درست دین ہے جس سے اکثریت بے خبر ہیں اللہ تعالی نے ہمیں منع کر دیا کہ فرقے بنانے والوں میں شامل ہو کر مشرک نہ بن جائیں ۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں ان کے پاس جو ہوتا ہے وہ اس میں بڑے راضی ہوتے ہیں بڑے خوش ہوتے ہیں
اس کے لیے میں مثال دینا چاہوں گی کہ جو کچھ دیوبندیوں کے پاس ہے وہ بڑے خوش ہیں جو کچھ شیعہ کے پاس ہے وہ بڑے خوش ہیں جو کچھ بریلویوں کے پاس ہے وہ بڑے خوش ہیں جو کچھ اہل حدیث کے پاس ہے وہ بڑے خوش ہیں اور جو قادیانیوں کے پاس ہے وہ بڑے خوش ہیں ۔
خواتین وحضرات
اج کی ایات سے ہم نے یہ سیکھا کہ دین حنیفا درست دین ہے جو اللہ تعالی نے بنایا ہے جو ہمارے لیے بنایا ہے اور اللہ تعالی نے اپنی فطرت پر بنایا ہے اور اس دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔اور اللہ تعالی نے فرقے بنانے سے منع کر دیا ہے کیونکہ فرقے بنانے والے مشرک ہیں