اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے اور ہمارے لیے ابراہیم علیہ السلام کو اسوہ حسنہ کہا ہے

ڈسکرپشن

اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات پوسٹ نمبر تین۔ 3 


اللہ تعالی نے رسول ﷺ کے لیے اور ہمارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کےطرزعمل کو بہترین اسوہ حسنہ کہا ہے ۔۔۔مگر مولوی مفتی اور فرقہ پرستوں نےاللہ تعالی کے مقابلے میں امام بخاری کی کتابوں کو اسوہ حسنہ بنا لیا ہے اس طرح فرقہ پرستوں نے امام بخاری کو معبود بنا لیا ہے اور اس کی بندگی کرتے ہیں ۔۔

خواتین و حضرات 

ائیں حقیقت قران پاک سے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے رسول ﷺ کے لیے اور ہمارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے اسوہ حسنہ کو بہترین طرز عمل کہا ہے اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے 

 سورۃ الممتحنہ، آیات 4 تا 6 

سورۃ الممتحنہ، آیت 4

﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۖ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾

ترجمہ: بےشک آپ ﷺ کے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہم تم سے اور ان سب سے جن کی تم اللہ کے سوا بندگی یعنی غلامی کرتے ہو، بیزار ہیں۔ ہم نے تمہارا انکار کیا، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا، یہاں تک کہ تم صرف ایک اللہ پر ایمان لے آؤ۔ البتہ ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا کہ میں ضرور تمہارے لیے بخشش کی دعا کروں گا، لیکن اللہ کے مقابلے میں میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں ،اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں ، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

سورۃ الممتحنہ، آیت 5

﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾

ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کے لیے آزمائش نہ بنا، اور ہمیں بخش دے۔ اے ہمارے رب! بے شک تو زبردست حکمت والا ہے۔

سورۃ الممتحنہ، آیت 6

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ ۖ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ﴾

ترجمہ:بےشک ان میں اپ کے لیے بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہو۔ اور جو پھر جائے یعنی مرتد ہو جائے تو بے شک اللہ بے نیاز، تعریف کے لائق ہے۔

خواتین و حضرات 

اپ نے دیکھا کہ ان ایات میں اللہ تعالی نے رسول ﷺ کے لیے اور ہمارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے طرز عمل کو بہترین نمونہ کہا ہے۔اور اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ اسوہ حسنہ کے الفاظ دو دفعہ ائے ہیں ۔پہلے ایت نمبر چار میں اور پھر ایت نمبر چھ میں ہے۔ جب کہ تمام فرقہ پرست اس اسوہ حسنہ کو نہیں مانتے ۔جس کو اللہ تعالی نے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔۔بلکہ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں امام بخاری کو اپنا امام بنا لیا ہے اور اس کی کتابوں کو اسوہ حسنہ مانتے ہیں 

خواتین و حضرات 

 یاد رہے کہ اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کوسورہ البقرہ کی ایت نمبر 124 میں ہمارا امام کہا ہے اور سورہ حج کی ایت نمبر 78 میں ہمارا باپ کہا ہے ۔

اس طرح ہم ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں ابراہیم علیہ السلام ہمارے درمیان ایک کلمہ یعنی بات باقی چھوڑ گئے ہیں کہ میری رہنمائی وہی کرے گا یعنی محھے ہدایت وہی دے گا جس نے مجھے پیدا کیا ہے ۔تاکہ ہم اللہ تعالی سے رجوع کریں یعنی قران پاک سے رجوع کریں 

سورۂ الزخرف، آیات 26 تا 28:

آیت 26:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ

ترجمہ: "اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: 

بے شک میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم بندگی یعنی غلامی کرتے ہو۔"

آیت 27:

إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ

ترجمہ: "سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، بےشک وہی میری رہنمائی کرے گا یعنی ہدایت کرے گا  

آیت 28:

وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

ترجمہ: "اور ابراہیم اس کلمے کو اپنی اولاد میں باقی چھوڑ گیا ہےیعنی اپنے پیچھے ہمیشہ رہنے والی بات چھوڑ گیا ہے ، تاکہ وہ رجوع کریں ۔"

خواتین و حضرات 

 اپ نے دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام اپنی اولادیعنی ہمارے درمیان ایک بات چھوڑ گئے ہیں کہ ہماری رہنمائی وہی کرے گا جس نے ہمیں پیدا کیا ہے تاکہ ہم اللہ تعالی سے رجوع کریں ۔

یاد رہے کہ اللہ تعالی نےابراہیم علیہ السلام کو سورہ حج کی ایت نمبر 78 میں ہمارا باپ کہا ہے ۔۔اس طرح اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں ۔اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد یعنی ہمارے بارے میں کہا کہ بے شک جو میری اطاعت کرے گا تو بے شک وہ مجھ سےہے۔ 

سورۂ ابراہیم، آیت 35:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ

ترجمہ: "اور جب ابراہیم نے دعا کی: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا شہر بنا دے، اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی بندگی سے بچا ۔"

سورۂ ابراہیم، آیت 36:

رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ:

"اے میرے رب! بے شک ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے۔ پھر جو میری اطاعت کرے گا، وہ بےشک مجھ سے ہے، اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

خواتین و حضرات

 رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے کس کی اطاعت کی تویاد رہے کہ رسول ﷺ اور ایمان لانے والے صحابہ کرام نے ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کی ۔

سورۂ آلِ عمران، آیت 68

عربی:

إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ:

"بے شک ابراہیمؑ سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی اطاعت کی، اور یہ نبی (محمد ﷺ)، اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اور اللہ ایمان والوں کا دوست ہے۔" 

خواتین حضرات 

 اپ نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے اسوہ حسنہ کو دیکھا اور اپ نے دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والے صحابہ کرام نے بھی ان کی اطاعت کی تو اپ کس کی اطاعت کریں گے ابراہیم علیہ السلام کی یا مولوی مفتی اور فرقہ پرستوں کی اطاعت کریں گے ۔جنہوں نے امام بخاری کی کتابوں کو اسوہ حسنہ بنا لیا ہے۔اور امت کو اختلافات میں ڈال دیا ہے


:

#قرآن

#اسلام

#توحید

#ہدایت

#اللہ

#رسول

#Quran #islamicpost #IslamicReminder 

#Islam

#Tawheed

Related Articles

Details
اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات کیا ہیں

26 Jul

Read Now →
Details
اللہ تعالی نے ہمارا امام ابراہیم علیہ السلام کو بنایا ہے

27 Jun

Read Now →
Details
اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات میں رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام نے کس کی اطاعت کی

26 Jul

Read Now →