جو لوگ رسول ﷺ کے طریقے پر ایمان اور اسلام نہیں لائیں گے ان کے دین کو اللہ تعالی ہرگز قبول نہیں کریں گے
۰ڈسکرپشن
اب آپ کے سامنے جن آیات کا انتخاب کیا ہے ۔اس میں اللہ تعالیٰ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے دین اسلام سکھا رہے ہیں۔جس طرح رسولﷺ ایمان لائے اسلام لائے۔اگر ہم بھی اس طریقے پرایمان لائے اسلام لائے۔تواس دین کو اللہ تعالیٰ قبول کریں گے۔اس دین اسلام کے علاوہ اللہ تعالیٰ کسی دین کو قبول نہیں کریں گے۔یاد رہے کہ تمام فرقے اس طریقے سے مرتد ہیں۔وہ فقہ کے زریعے مسلم بنتے ہیں۔یا ایمان والا بننے کی کوشش کرتے ہین یا دکھاوہ کرتے ہیں۔یہ غلط طریقہ ہے۔جسے اللہ تعالیٰ ہر گز قبول نہیں کریں گے اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔ کیونکہ یہ دین اسلام کاطریقہ نہیں ہے۔ایمان لانے مسلم بننے کا طریقہ پیش کیا جارہا ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ ہم سے اور قیامت تک آنے والے لوگوں سے پوچھ رہے ہیں۔کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا دین چھوڑکرکچھ اورچا ہتے ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں چاروناچار اللہ تعالیٰ ہی کی فرما بردار ہیں اور اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔
ٓاب ایمان اور اسلام لانے کے حوالے سے آیات دیکھتے ہیں
) سورہ آل عمران۔آیات83تا85۔پارہ3
پھر کیا وہ اللہ تعالیٰ کا دین کے سوا چا ہتے ہیں حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں چاروناچار اللہ تعالیٰ ہی کی فرما بردار ہیں اور اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔
آپﷺکہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور جو ہماری طرف ناذل کی گئی ہے اور جو ابراہیم ؑ اسماعیل ؑ اسحاق ؑ اور ان کی اولاد کی طرف ناذل کی گئیں تھیں اور جو موسیٰ ؑ عیسیٰؑ کو دیں گئیں اور دوسرے پیغمبروں کو دیں گئیں تھیں ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے ہی فرمابردار ہیں یعنی مسلم ہیں۔ جو کوئی اسلام کے سوا اوردین ااختیار کرنا چا ہے گا۔اس کا وہ طریقہ ہرگز اُس سے قبو ل نہیں کیا جا ئے گا اور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی فرمابرداری والا دین یعنی اسلام چھوڑ کر کسی اورمذہب کی اطا عت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی فرما برداری کر رہی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی سب کو پلٹنا ہے آ پ ؐ کہہ دیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور قرآن پر ایمان لائیں اور جو دوسرے رسولوں کو کتابیں دیں گئیں ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرما بردار ہیں۔اس فرما برداری کے سوا جو کوئی اور طریقہ اختیار کرے گا تو اس سے وہ طریقہ ہرگز قبول نہیں کیا جا ئے گا۔اور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا
خواتین و حضرات!
یہ جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔اس طریقے کے علاوہ اللہ تعالیٰ کسی طریقے کو قبول نہیں کریں گے۔
جس طرح رسولﷺ نے کہا اوراسلام لائے ایمان لائے۔ہم نے بھی اسطرح کہنا ہے۔اسی طرح اسلام لانا ہے۔ایمان لانا ہے۔ یہ رسولﷺ کی اطاعت ہے
آپ نے دیکھا۔ان آیات میں مسلم بننے کاطریقہ سکھایا گیا ہے۔اگر ہم بھی اس طرح اسلام لائے۔تواس دین کو اللہ تعالیٰ قبول کریں گے۔اس دین اسلام کے علاوہ اللہ تعالیٰ کسی دین کو قبول نہیں کریں گے۔
خواتین و حضرات!
جس طرح لوگ فقہ پڑھ کر مسلم بننے کی کوشش میں بریلوی دیوبندی یا شعیہ بنتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ اس فرقہ بندی کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔۔۔
خواتین وحضرات!
میں نے آپ کو قرآن پاک سے اسلام قبول کرنے کا طریقہ دکھایا۔جو رسولﷺ نے ہمیں سکھایا۔وہ یہ ہے۔۔۔ رسولﷺ نے قیامت تک آنے والے لوگوں کو اس طرح بتایا کہ کہ ہم ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور جو ہماری طرف ناذل کی گئی ہے اور جو ابراہیم ؑ اسماعیل ؑ اسحاق ؑ اور ان کی اولاد کی طرف ناذل کی گئیں تھیں اور جو موسیٰ ؑ عیسیٰؑ کو دیں گئیں اور دوسرے پیغمبروں کو دیں گئیں تھیں ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے ہی فرمابردار ہیں یعنی مسلم ہیں۔ جو کوئی اسلام کے سوا اوردین ااختیار کرنا چا ہے گا۔اس کا وہ طریقہ ہرگز اُس سے قبو ل نہیں کیا جا ئے گا اور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔
خواتین وحضرات!
ٓآپ نے دیکھا۔کہ ہم نے قرآن پاک سمیت پہلی تمام کتابوں پر ایمان لانا ہے۔نہ کہ قرآن پاک کے بعد کسی حدیث کی کتاب پر ایمان لانا ہے۔نہ اجماع پر ایمان لانا ہے نہ قیاس پر ایمان لانا ہے ۔اس طریقے کو اللہ تعالیٰ ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ا ور آخرت میں وہ نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔
یا د رکھیں
اس طریقے کو اللہ تعالیٰ نے سارے قرآن پاک میں بیان کیا ہے۔یعنی قرآن اور قرآن سے پہلی کتابوں پر ایمان لانا۔ نہ کہ قرآن پاک کے بعد نام نہاد اماموں کی لکھی کتابوں پر ایمان لانا۔ اللہ تعالی کے مقابلے پر مولوی کہتا ہے کہ احادیث کے بغیر قرآن پاک کی سمجھ نہیں آئے گی۔اسطرح مولوی اللہ تعالیٰ سے اختلاف کرتا ہے۔اسطرح مولوی احادیث سے تشریح کی آڑ میں قرآن پاک کے احکام کو تبدیل کرتا ہے۔
اس طرح تمام فرقوں نے دین اسلام کی تعلیمات کو احادیث کے زریعے تبدیل کر دیا ہے،
اللہ تعالی ایسے تمام لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ کیاتم اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین چاہتے ہو.حالانکہ.زمین اور اسمان کی تمام چیزیں چاہتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی اسلام پر ہیں یعنی اللہ تعالی کی فرمانبرداری پرہیں.اللہ تعالی نے اس خطاب کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے قیامت تک انے والے لوگوں کو ایمان لانے کا اور اسلام لانے کا طریقہ سکھا دیا جولوگ اس کو مانیں گے وہ ہدایت پر ہوں گے اور جو نہیں مانیں گے وہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے