حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اولاد یعنی ہمارے درمیان کون سی بات چھوڑ گئے ہیں

ڈسکرپشن

ابراہیم علیہ السلام اپنی اولاد یعنی ہمارے درمیان ایک کلمہ چھوڑ گئے ہیں کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری رہنمائی کرے گا.یاد رہے کہ اللہ تعالی نے سورہ حج کی ایت 78 میں ابراہیم علیہ السلام کو ہمارا باپ کہا ہے

سورۂ زخرف، آیات 26 تا 28

عربی:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ ۝٢٦

إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ ۝٢٧

وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۝٢٨

اردو ترجمہ:

"اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: بے شک میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم بندگی یعنی غلامی کرتے ہو۔ (26)

سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس وہی میری رہنمائی کرے گا۔ (27)

اور ابراہیم اپنی اولاد میں ایک ہمیشہ باقی رہنے والا کلمہ چھوڑ گیا، تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع کریں۔

Related Articles

Details
اللہ تعالی کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ان ایات میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اطاعت کرنے والوں کو اسلام لانے کا طریقہ سکھایا

08 Jul

Read Now →
Details
رسول ﷺ نے دنیا کو اپنے درست دین کے بارے میں کیا تفصیل بتائی

02 Jul

Read Now →
Details
اللہ تعالی نے ہمیں حنیفا یعنی یکسو دین پر قائم ہونے کا حکم دیا ہے

18 Jul

Read Now →