حضرت موسی علیہ السلام کی قوم پر ہفتے والے دن کا عذاب اس لیے ایا تھا کہ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے دین میں اختلاف کیا تھا
اللہ تعالی ابراہیم علیہ السلام کی امت کی بے حد تعریف کر رہےہیں ہے.اور اسے منتخب کرنے کی وجہ بتا رہے ہیں ۔کہ وہ امت اللہ تعالی کی فرمانبردار تھی یکسو تھی اور شرک کرنے والوں میں سے نہ تھی.اللہ تعالی مزید فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کے شکر گزار تھی اس لیے اللہ تعالی نے انہیں منتخب کر لیا..سیدھے راستے کی ہدایت دی.پھر اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فرمایا کہ اپ ابراہیم علیہ السلام کے ملت کی اطاعت کریں.جو یکسو تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔اللہ تعالی حضرت موسی علیہ السلام کی قوم پر جو ہفتے والے دن کا عذاب ایا تھا اس کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی ملت والے دین میں اختلاف کیا تھا اس اس اس لیے ان پر عذاب ایا تھا جن باتوں میں وہ لوگ اختلاف کرتے تھے اس کا فیصلہ اللہ تعالی قیامت والے دن کریں گے ۔اب ائیں ایات لکھتے ہیں
سورۂ النحل، آیت 120
عربی:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ: "بے شک ابراہیم کی امت، اللہ کی فرمانبردار، یکسو تھی، اور مشرکوں میں سے نہ تھی۔"
سورۂ النحل، آیت 121
عربی:
شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
ترجمہ: "وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اللہ نے انہیں منتخب کر لیا اور سیدھے راستے کی ہدایت دی۔"
سورۂ النحل، آیت 123
عربی:
ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
ترجمہ: "پھر ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی کہ ابراہیم کے ملت کی اطاعت کریں ، جو یکسو تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔"
سورۃ النحل، آیت 124
عربی:
إِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
ترجمہ:
"ہفتے (سبت) کا حکم تو صرف ان لوگوں پر مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں یعنی ابراہیم علیہ السلام کی ملت میں اختلاف کیا تھا، اور بے شک آپ کا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔"