رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں ایمان لانے کا اور مسلم بننے کایعنی اسلام لانے کا کیا طریقہ سکھایا
) سورہ البقر ہ۔آیات135تا137پا رہ 1
اوروہ کہتے ہیں کہ یہودی ہو جا ؤ یا نصرانی ہو جا ؤ ہدایت پا جاؤ گے۔آپ ﷺ کہہ دو نہیں بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کی ملت۔ جو حنیفا تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔۔
آپ ﷺکہہ دو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف ناذل کی گئی اور جو ناذل کی گئیں ابراہیم ؑ اسما عیل ؑ اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ پر اور ان کی اولاد پر اور جو دیں گئیں موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ اور جو دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم تو اسی کے فرمابردار ہیں یعنی مسلم ہیں پھر اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح آپ ﷺ لا ئے ہیں۔ تو وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ پھر جائیں تو پھر وہ بے جا ضد میں پڑ گئے ہیں سو کافی ہے ان کے مقابلے کے لیے تمہارا اللہ اور وہ سننے والا علم والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رنگ۔۔اور اللہ تعالیٰ کے رنگ سے اچھا رنگ کس ہو سکتا ہے۔ اور ہم تو اُسی کی بندگی یعنی غلامی کرنے والے ہیں۔
خواتین وحضرات!
آپ نے دیکھا کہ ان آیات میں یہود ونصاریٰ کا زکر ہے اور رسولﷺ کا زکر ہے۔یہود ود ونصاریٰ اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ان کے مقابلے میں رسولﷺ بھی اپنے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں۔۔
اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے طرز عمل کی وضاحت کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ وہ لوگ یہودی یا نصرانی بننے کا کہیں کہ اس طرح ہدایت مل جا ئے گی۔ ایسے تمام لوگوں کوآپ ﷺ کہہ دیں کہ نہیں بلکہ حضرت ابراہیم ؑ کی ملت جو حنیفا یعنی صرف اللہ تعالی ٰ کے ہو گئے تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔۔۔۔
یعنی یہود ونصاری کے جواب میں ہم کچھ اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں۔کہ رسولﷺ نے جواب میں کہا کہ نہیں ابراہیم کی ملت سے ہدایت ملے گی جو یکسو یعنی صرف اللہ تعالی ٰ کے ہو گئے تھے اور وہ مشرک نہیں تھے۔
خواتین وحضرات!
اللہ تعالیٰ نبی ﷺ سے کہہ رہے ہیں کہ اس طرح کہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔
اور جو کتابیں ابراہیم ؑ اسماعیل ؑاسحاق ؑ اور ان کی اولاد کو دیں گئیں ہم ان تمام کتابوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم تو اللہ تعالیٰ کے فرما بردار ہیں۔جس طرح آپ ﷺ نے یہ بات زبان مبارک سے کہی ہے۔ اگر دوسرے لوگ بھی اس طرح کہیں تو وہ بھی ایمان لائے اور انہوں نے بھی ہدایت حاصل کرلی۔
اور اگر وہ ان باتوں سے پھر جائیں یعنی مرتد ہو جائیں۔ تو درحقیقت وہ ضد میں پڑ گئے ہیں ان کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ کا فی ہے اور اللہ تعالیٰ سننے والا علم والا ہے
خواتین وحضرات!
۔ان آیات میں ایمان لانے کا طریقہ موجودہے ۔ جس کے زریے ہم نے مسلم بننا تھا۔مگر اس سے نام نہاد اُمتِ مسلمہ پھر چکی ہے۔یعنی مرتد ہو چکی ہے۔
آج ہمیں کوئی کہے۔کہ سنی بن جاؤ یا شیعہ بن جاؤ۔بریلوی بن جاؤ۔یاکسی بھی فرقے کی آفر کرے تو ایسے لوگوں کو ہمارا جواب ہے۔ وہی جو رسولﷺ کاجواب تھا۔ہر گزنہیں بلکہ حضرت ابراہیم ؑکی ملت۔ جو صرف ایک اللہ تعالیٰ کے ہو گئے تھے۔ اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ یہ طریقہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسولﷺ کے زریعے سکھایا تھا۔ان آیات میں بھی ہمیں دین اورایمان سکھایا گیا ہے۔جس طرح رسولﷺ نے کہا اوراسلام لائے ایمان لائے۔ہم نے بھی اسطرح کہنا ہے۔اسی طرح اسلام لانا ہے۔ایمان لانا ہے۔ یہ رسولﷺ کی اطاعت ہے۔اس طرح ہدایت ملے گی۔ قرآن پاک کی آیات میں تحریف کرکےفقہ کی کتابیں اکتھا کرکے فرقے کی اطاعت کرنے والے کبھی مسلم نہیں بن سکتے ہیں ۔اس طرح کوئی ایمان والا یا مسلم نہیں بن سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت میں ضد ہے۔ کہ تمام فرقوں نے اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ کے طریقے کو ریجکٹ کرکے ان کے مقابلے میں اپنا طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ اس طرح ہم میں یہودونصاریٰ میں کوئی فرق نہیں رہا۔کیونکہ وہ اس طریقے کو نہیں مانتے اور تمام فرقے بھی اس طریقے کو نہیں مانتے۔یعنی ہم ایمان لا کر مسلم نہیں بنے۔۔۔