رسول ﷺ نےابراہیم علیہ السلام کا یہ اسوہ حسنہ قیامت تک انے والے لوگوں کو پہنچایا ہے کہ تمام جہانوں کے رب کے سوا باقی سب میرے دشمن ہیں
ڈسکرپشن
اسلام یعنی دین حنیفا کی تعلیمات قسط نمبر 4
یاد رہے کہ اللہ تعالی نے سورہ الممتحنہ کی ایات چار سے لے کر چھ میں۔ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے لیے بہترین نمونہ کہا ہے۔اور ۔ان ایات میں اسوہ حسنہ کا خلاصہ بیان کر دیا ہے ۔جو تمام قران پاک میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے ۔۔
خواتین وحضرت
آئیں ابراہیم علیہ السلام کے طرز عمل کو قران پاک میں دیکھتے ہیں۔
سورۂ الشعراء، آیات 69 تا 85 (عربی اور اردو ترجمہ)
آیت 69
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ
ترجمہ:
اوراپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انہیں ابراہیم کا واقعہ سنا دیجیے۔
آیت 70
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ
ترجمہ:
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: تم کس کی بندگی یعنی غلامی کرتے ہو؟
آیت 71
قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ
ترجمہ:
انہوں نے کہا: ہم بتوں کی بندگی یعنی غلامی کرتے ہیں اور انہیں کےلیے لگے رہتے ہیں۔یعنی اسی پر جمے ہوئے ہیں
آیت 72
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ
ترجمہ:
ابراہیم علیہ السلام نے کہا: جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری سنتے ہیں؟
آیت 73
أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ
ترجمہ:
یا وہ تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
آیت 74
قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ
ترجمہ:
انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا ہے۔
آیت 75
قَالَ أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ
ترجمہ:
ابراہیم نے کہا: کیا تم نے غور کیا ہے کہ جن کی تم بندگی یعنی غلامی کرتے ہو،
آیت 76
أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ
ترجمہ:
تم بھی اور تمہارے پہلے کے باپ دادا بھی؟
آیت 77
فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ:
بس بےشک وہ سب میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔
آیت 78
الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ
ترجمہ:
وہی جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے ہدایت دیتا ہے۔
آیت 79
وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ
ترجمہ:
اور وہی مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔
آیت 80
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
ترجمہ:
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
آیت 81
وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ
ترجمہ:
اور وہی مجھے موت دے گا، پھر دوبارہ زندہ کرے گا۔
آیت 82
وَالَّذِي أَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ
ترجمہ:
اور وہی ہے جس سے مجھے امید ہے کہ وہ دین کے دن میری خطا معاف فرما دے گا۔
آیت 83
رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے حکم عطا فرما اور مجھے صالحین میں شامل کر دے۔
آیت 84
وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ
ترجمہ:
اور آنے والوں میں میرے لیے سچی نیک نامی قائم فرما۔
آیت 85
وَاجْعَلْنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
ترجمہ:
اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں شامل فرما۔
خواتین و حضرات
اپ نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ حسنہ یعنی طرز عمل کو رسول ﷺ کے ذریعے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہےاور ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اس کوبیان کریں ۔ابراہیم علیہ السلام کےوالداور قوم جو بتوں کی بندگی یعنی غلامی کرتی تھی ۔ان سے اس بارے میں ابراہیم علیہ السلام نے چند سوالات کیے ۔جن کا وہ جواب نہ دے پائے ۔۔ابراہیم علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تمام جہانوں کے رب کے سوا سب میرے دشمن ہیں کہ میں ان کی بندگی کروں۔ بندگی کا حق صرف اللہ تعالی کے لیے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے پھر وہی میری ہدایت کرے گا وہی مجھے کھلاتا ہے۔اورپلاتا ہے اورجب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ زندگی بخشے گا اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت والے دن وہ میری خطاؤں کو معاف کرے گا اے میرے رب مجھے حکم عطا کر اور مجھے صالحین کے ساتھ شامل کر اور بعد میں انے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا کر اور مجھے جنت کے وارثوں میں شامل کر۔
خواتین و حضرات
اپ نے ابراہیم علیہ السلام کا طرز عمل یعنی اسوہ حسنہ نوٹ کیا۔ کہ ان کا والد اور ان کی قوم بتوں کی بندگی یعنی غلامی کرتی تھی ان سے ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا کہ اپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے کہا اس لیے کہ یہ کام ہمارے باپ دادا کرتے تھے تو اس لیے ہم بھی کرتے ہیں۔ ان کے جواب میں ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے تمام جہانوں کے رب کے کیونکہ بندگی کاحق صرف اللہ تعالی کا ہے ۔جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری ہدایت کرے گا ۔ وہی جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے ۔پھر وہ مجھے وفات دے گا پھر وہ دوبارہ زندہ کرے گا میں اسی سے امید رکھتا ہوں کہ دین کے دن میرے گناہوں کو معاف کرے گا اورصالحین کے ساتھ شامل کرے گا
خواتین وحضرات
اپ نے دیکھا کہ ان ایات میں ابراہیم علیہ السلام نے بتایا کہ وہ جس رب کی بندگی کرتے ہیں تو ان میں یہ یہ صفات ہیں ۔
خواتین وحضرات ۔
ہم نے بھی یہ کہنا ہے کہ تمام جہانوں کے رب کے سوا سب ہمارے دشمن ہیں
اج ہمارا المیہ ہے۔ کہ ہر طرف شرک کے اڈے ہیں۔یہ تمام پیر بابے ۔جادو تعویز دم اور تمام مولوی مفتی اورفرقہ پرست ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ حسنہ سے ناواقف ہیں۔یہ اسی کی اطاعت کر رہے ہیں جس پر انہوں نے اپنے باپ دادا کو پایا تھا ۔ ۔وہ اپنے اپنے فرقوں کی اور اپنے اپنے اماموں کی بندگی یعنی غلامی کرتے ہیں۔جو نہ کسی کو ہدایت دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو نہ کس کو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو نہ کسی کو کھلانے پلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ کسی کو شفا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ کسی کو موت دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ کسی کو دوبارہ زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اور نہ کسی کے گناہ معاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔نہ کسی کو جنت کا وارث بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
خواتین حضرات
اپ نے دیکھا کہ ان ایات سے ہمیں صاف اور واضح پتہ چلا کہ ہم نے ان خصوصیات والے رب کی بندگی یعنی غلامی کرنی ہے اور اس کے علاوہ کسی کی بندگی یعنی غلامی نہیں کرنی کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ حسنہ یعنی طرز عمل ہے جس کی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی کرتے تھے اور اس کا ہمیں بھی سورہ المنتحنہ کی ایت چار سے لے کر چھ میں حکم دیا گیا ۔
سورۂ العنکبوت، آیات 16 تا 18
آیت 16
عربی: وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ۖ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
اردو ترجمہ: اور ابراہیم علیہ السلام جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اللہ کی بندگی یعنی غلامی کرو اور اسی سے ڈرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
آیت 17
عربی: إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ ۖ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
اردو ترجمہ: بےشک تم اللہ کے سوا صرف بتوں کی بندگی یعنی غلامی کرتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو۔ بے شک جن کی تم اللہ کے سوا بندگی کرتے ہو وہ تمہارے لیے رزق کے مالک نہیں ہیں، لہٰذا رزق اللہ ہی کے پاس تلاش کرو، اسی کی بندگی یعنی غلامی کرو، اسی کا شکر ادا کرو، اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔
آیت 18
عربی: وَإِن تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ ۖ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
اردو ترجمہ: اور اگر تم جھٹلاؤ گے تو تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں جھٹلا چکی ہیں، اور رسول صلی للہ علیہ والہ وسلم پر تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے۔
خواتین و حضرات
اپ نے دیکھا کہ ان ایات میں اللہ تعالی نے رسول ﷺ کےزریعے ابراہیم علیہ السلام کے طرز عمل یعنی اسوہ حسنہ کو وضاحت سے بیان کیا ہے ۔ابراہیم علیہ السلام صرف ایک رب کی بندگی کرتے تھے۔یہ طرز عمل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی تھا اللہ تعالی ہم سے فرماتے ہیں کہ اگر تم اس پیغام کو جھٹلاؤ گے۔ تو پہلے بھی بہت ساری امتیں یہ کام کر چکی ہیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ صرف اللہ تعالی کا پیغام وضاحت سے پہنچا دینا ہے ۔ رسول کا کام خالص وحی لوگوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔مگر لوگ اس کے ساتھ جھوٹ بنا لیتے ہیں ۔جیسا کہ قران پاک کے ساتھ احادیث جھوٹ بنائی گئیں اور انہیں بھی وحی کہا گیا ۔ان ایات میں ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی بندگی کرو اور پرہیزگار بنو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ۔تم اللہ تعالی کو چھوڑ کرجن کی بندگی یعنی غلامی کرتے ہو اور۔جھوٹ بناتے ہو۔ بے شک تم اللہ تعالی کو چھوڑ کر جن کی بندگی کرتے ہو وہ یقینا تمہیں روزی دینے کا اختیار نہیں رکھتے بس روزی تم اللہ تعالی کے پاس تلاش کرو اس کا شکر کرو اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔
خواتین و حضرات
اپ نے ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب دیکھا وہ ایک رب کی بندگی کا حکم دے رہے ہیں اور پرہیزگار بننے کا حکم دے رہے ہیں اور ایک رب کی بندگی چھوڑ کر کسی دوسرے کی بندگی کرنا جھوٹ بنانا ہے توجو لوگ اللہ تعالی کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی بندگی کرتے ہیں جیسا کہ لوگ امام بخاری کی بندگی کرتے ہیں تو یہ رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ بس رزق اللہ تعالی کے پاس تلاش کرو اور اس کا شکر کرو اور اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہے ۔تم جھٹلاؤ گے تو تم سے پہلے امتیں بھی جھٹلا چکی ہیں ۔اور رسول کا کام تو بس وضاحت سے پیغام پہنچا دینا ہے ۔
خواتین حضرات
اپ نے ان ایات میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ابراہیم علیہ السلام کا پیغام پہنچایا اپ نے اس میں غور کیا کہ وہ ایک رب کی بندگی کرنے والے تھے انہوں نے فرمایا ۔اس کے علاوہ کسی اور کی بندگی کرنے والے اپ کو رزق دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے اس لیے اللہ تعالی کے پاس رزق تلاش کرو اس کا شکر کرو اور اسی کی طرف تم نے واپس لوٹ کر جانا ہے
خواتین وحضرات
یہ پیغام رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہنچا دیا ہے ۔تمام فرقے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پیغام کی مخالفت میں امام بخاری کی بندگی کرتے ہیں۔اپنے اپنے فرقوں پر قائم ہیں اس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلادیا ہے۔کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ حسنہ یعنی طرز عمل کا پیغام لے کر ائے ہیں اس کو وہ نہیں مانتے ۔ ۔وہ امام بخاری کے ذریعے دیے گئے حدیث کی کتابوں کو انہوں نے اسوہ حسنہ بنا لیا ہے ۔ اس طرح انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیاا ہے